ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شمالی کوریا کو آگ اور غصے کا سامنا ہے: ٹرمپ

شمالی کوریا کو آگ اور غصے کا سامنا ہے: ٹرمپ

Wed, 09 Aug 2017 16:30:08    S.O. News Service

سیول،9/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ بین البراعظمی میزائلوں کے تجربات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اسے آگ اور شدید غصے کا سامنا ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے یہ خوفناک انتباہ امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پیونگ یانگ نے جوہری ہتھیار کا سائز انتہائی چھوٹا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد شمالی کوریا کی جانب سے کہا گیا کہ وہ بحرالکاہل میں موجود جزیرے گوام پر میزائل حملہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ جزیرہ گوام پر اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل امریکی عسکری تنصیبات موجود ہیں۔ شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی KCNA نے ایک فوجی بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی طرف سے اجازت ملتے ہی اس منصوبے پر کسی بھی لمحے عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔نیو جرسی میں اپنے گولف کلب میں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، شمالی کوریا کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ امریکا کو مزید کوئی دھمکی نہ دے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا، انہیں ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا پڑے گا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔

اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے تازہ انتباہ دراصل اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف امریکی نقطہ نظر میں سختی کا اظہار ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا کی طرف سے بھی خوفناک دھمکیوں کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ابھی پیر کے روز ہی پیونگ یانگ کی طرف سیول کو شعلوں کا سمندر بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔بحر الکاہل میں واقعہ 210مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جزیرہ گوام امریکا کی ایک اہم فوجی چھاؤنی ہے جہاں 6,000امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس جزیرے پر ایک ایئرفورس بیس اور نیول بیس بھی قائم ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک تجزیے کے حوالے سے لکھا کہ حکام کے خیال میں شمالی کوریا کے پاس ایسا جوہری ہتھیار موجود ہے جسے میزائل کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق چونکہ اب شمالی کوریا کے پاس بین البراعظمی میزائل بھی موجود ہے لہذا اس سے نہ صرف یہ کمیونسٹ ریاست اپنے ہمسایہ ممالک بلکہ ممکنہ طور پر امریکا کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔


Share: